22 فروری 2026 - 15:32
مآخذ: ابنا
ایران پر کسی بھی فوجی حملے کا خطرہ بہت بڑا اور مہنگا ہوگا:سابق سعودی اہلکار

سعودی عرب کے سابق مشاورتی کونسل کے رکن اور سیاسی تجزیہ کار احمد التویجری نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی کارروائی ایک بہت بڑا اور مہنگا قمار ہوگا، کیونکہ ایران کے پاس مختلف اور شدید ردعمل کے اختیارات موجود ہیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،  سعودی عرب کے سابق مشاورتی کونسل کے رکن اور سیاسی تجزیہ کار احمد التویجری نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی کارروائی ایک بہت بڑا اور مہنگا قمار ہوگا، کیونکہ ایران کے پاس مختلف اور شدید ردعمل کے اختیارات موجود ہیں۔

التویجری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران ونیزویلا نہیں ہے اور اگر اسے وجودی خطرہ محسوس ہوا تو وہ اپنے ردعمل کی حد بڑھا سکتا ہے، جس سے پورا خطہ متاثر ہو سکتا ہے، خلیج فارس میں بحران پیدا ہو سکتا ہے اور تنگہ ہرمز بند ہو سکتا ہے۔

سابق سعودی اہلکار نے مزید کہا کہ ایران امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے اور کسی بھی فوجی حملے کی صورت میں صہیونی حکومت پر بھی میزائل حملے کر سکتا ہے۔

التویجری نے ایران کے ساتھ جنگ کے امکانات کو غیر حقیقی اور غیر محتاط قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے اس خطرے کو روکنے کے لیے اپنی تمام سیاسی کوششیں کی ہیں۔

انہوں نے عادی تعلقات قائم کرنے کے معاملے میں سعودی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کے لیے ایک آزاد ملک کا قیام اس راستے کی بنیادی شرط ہے اور عرب اسرائیلی تنازع میں فلسطینی حق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

التویجری نے اسرائیل کی غزہ میں عسکری کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل خطے، عرب دنیا اور یہاں تک کہ یہودیوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ عربستان نے کبھی بھی فلسطینی عوام کے حقوق کو نظر انداز کر کے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی اور حماس کو بھی فلسطینی عوام کا حصہ مانا جاتا ہے، اس لیے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha